وہ ایک نئے عزم سے میدان عمل میں کو دی تھی۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
سعدیہ نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کمر تھپتھپا کر
مصرعہ سنایا تھا اور بس پھر اس نے نہ دن دیکھا نہ رات
مسلسل اور انتھک محنت کو اس نے اپنا شعار بنا لیا تھا۔
تھیم تو پہلے کی طرح ابھی بھی وہ سب مل کر ہی
ڈھونڈتی تھیں مگر اس کے بعد کا سارا کام وہ ننھی سی
جان" تنہا کیا کرتی تھی۔ آدھی رات کو وہ سوتے سے
افشاں کو اٹھا دیتی۔ وہ بے چاری آنکھیں ملتی ہوئی ہکا
بکا اس کی شکل دیکھتی تو وہ بڑی سنجیدگی سے پین منہ میں
دبائے سوال کرتی۔
ہابیل نے قابیل کو قتل کیا تھا یا قابیل نے ہابیل کو؟
افشاں کا دل چاہتا کہ اس کا سر پھاڑ دے رات کے
تین بجے سوتے سے اٹھا کر اتنے بے تکے سوال کا پس
منظر ا سے اچھی طرح معلوم تھا۔
یار!مجھے اپنے ہیرو کا کوئی یونیک سا نام رکھنا ہے۔
نام تو میرے ذہن میں آگیا۔ اب کنفیوژن یہ ہے کہ
کہیں میں ہیرو کا نام قاتل بھائی کے نام پر نہ رکھدوں
وہ معصومیت سے عرض کرتی۔
..
پیارے ریڈرز !
السلام علیکم! 👋
ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا ناول ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی لنک نہیں ملتا، تو کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ہم نے "Smart Urdu Novel Bank" تخلیق کیا ہے۔
یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک "Smart Library" ہے جہاں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر وہ ناول ملے گا جو پی ڈی ایف شکل میں موجود ہے۔
ایک چھوٹی سی جھلک:
عام ویب سائٹس پر آپ کو چند سو ناولز ملتے ہیں، لیکن ہمارے اس سسٹم میں ایک لاکھ سے زائد ناولز کے لنکس محفوظ ہیں! چاہے پرانا ڈائجسٹ ہو یا نیا ناول، بس نام لکھیں اور لنک حاضر۔
آزمانا شرط ہے! ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: 👇


Please share your valuable thoughts about this novel. We look forward to your comments.👇