وقت ضائع مت کرو نور خان شهباز سخت آواز میں بولا۔ تم نے اب دیر کی تو مجھے طیش آ جائے گا۔"
نور خان آنکھیں پھاڑ کر شہباز کی طرف دیکھتا رہا پھر وہ بھیگی بلی سا بنا ہوا آگے بڑھااور مہ جبیں کے آگے گھٹنے ٹیک کر معافی مانگی۔
”ہاں اب ٹھیک ہے۔ “ شہباز نے کہا۔ ”جاؤ اب دفع ہو جاؤ!"
نور خان آنکھوں سے خون برساتا ہوا اپنے گھوڑے پر بیٹھا اور چل دیا۔
مہ جبیں کو شہباز کوئی فرشتہ محسوس ہوا۔ شہباز نے اس کی عزت پامال ہونے بچائی تھی اور اس کے لئے ڈھال بن گیا تھا۔
ایک جوان ادھر گھائل پڑا ہے۔ " شہباز نے مہ جبیں کو بتایا۔
”وہ میرا بھائی ہے۔“ مہ جبیں جلدی سے بول اٹھی۔
تو پھر چلو دیر مت کرو۔شہباز بولا اور پھر مہ جبیں کو گھوڑے پر بٹھا کر ادھر چل پڑا جہاں مہ جبیں کا بھائی گلفام زخمی پڑا تھا۔
مہ جنہیں اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر رو پڑی۔
شہباز نے اتر کر گلفام کی نبض دیکھی اور پھر کہا۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
پیارے ریڈرز !
السلام علیکم! 👋
ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا ناول ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی لنک نہیں ملتا، تو کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ہم نے "Smart Urdu Novel Bank" تخلیق کیا ہے۔
یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک "Smart Library" ہے جہاں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر وہ ناول ملے گا جو پی ڈی ایف شکل میں موجود ہے۔
ایک چھوٹی سی جھلک:
عام ویب سائٹس پر آپ کو چند سو ناولز ملتے ہیں، لیکن ہمارے اس سسٹم میں ایک لاکھ سے زائد ناولز کے لنکس محفوظ ہیں! چاہے پرانا ڈائجسٹ ہو یا نیا ناول، بس نام لکھیں اور لنک حاضر۔
آزمانا شرط ہے! ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: 👇
.png)

Please share your valuable thoughts about this novel. We look forward to your comments.👇