وہ رات بڑی تاریک اور ہولناک تھی۔ صلیبی رات کے وقت بھی وقفے وقفے سے شیزر شہر کی فصیل پر حملہ آور ہور۔ پر حملہ آور ہور ہے ۔ تے جبکہ ابو عسا کرا۔ سا کر اپنے مختصر لشکر کے ساتھ شیز رشہر کا دفاع کر رہا تھا شیزر مسلمانوں کا ایک مشہور شہر اور قلعہ تھا اور یہ دریائے عاصی کے کنارے واقع تھا۔ مورخ ابوالفد الکھتا ہے کہ شیر را ایک انتہائی مضبوط اور مستحکم قلعہ ہے۔
اس کے شمال سے دریائے عاصی گزرتا ہے اور تھوڑے ہی فاصلہ پر ایک پشتے پر سے تقریباً دس ہاتھ نیچے گرتا ہے۔ شیز رشہر اور قلعہ کے اندر بیشمار درخت اور ان گنت میوہ جات کے باغات ہیں۔ یہاں کا انار خصوصیت کے ساتھ مشہور تھا شیز رشہر کا فاصلہ حمص شہر سے تینتیس میل اور انطاکیہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ اس کی شہر پناہ یعنی فصیل دھوپ سے پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس میں تین دروازے تھے۔
ابو عسا کر کو اب بڑی بے چینی سے عمادالدین زنگی کا انتظار تھا جہاں وہ خود فصیل پر موجود رہتے ہوئے صلیبی کے حملوں کی روک تھام کر رہا تھا وہاں اس کی نگاہیں شیز رشہر کے نواح پر بھی جمی ہوئی تھی اسے لئے کہ اس فضا میں بلند ہونےوالے تیر کا انتظار تھا جو عمادالدین زنگی کی آمد کی نشانی تھی۔
Read Complete Novel Here
پیارے ریڈرز !
السلام علیکم! 👋
ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا ناول ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی لنک نہیں ملتا، تو کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ہم نے "Smart Urdu Novel Bank" تخلیق کیا ہے۔
یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک "Smart Library" ہے جہاں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر وہ ناول ملے گا جو پی ڈی ایف شکل میں موجود ہے۔
ایک چھوٹی سی جھلک:
عام ویب سائٹس پر آپ کو چند سو ناولز ملتے ہیں، لیکن ہمارے اس سسٹم میں ایک لاکھ سے زائد ناولز کے لنکس محفوظ ہیں! چاہے پرانا ڈائجسٹ ہو یا نیا ناول، بس نام لکھیں اور لنک حاضر۔
آزمانا شرط ہے! ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: 👇


Please share your valuable thoughts about this novel. We look forward to your comments.👇