ِنرملا از منشی پریم چند
منشی پریم چند (1936-1880) بیسویں صدی کے ہندو مصنف ہیں.ان کا طرز بیان دلچسپ اور سادہ ہے. یہ اپنے ناولوں میں منظر نگاری نہیں کرتے لیکن پھر بھی قاری کردار کا روپ دھار کے اس کے احساسات محسوس کرنے لگتا ہے. یہ اپنے ناولوں میں معاشرتی مسائل اجاگر کرتے ہیں.
نِرملا ایک سولہ سالہ لڑکی کی کہانی ہے جس کا پہلا رشتہ مناسب جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اس کی شادی تین لڑکوں کے باپ طوطا رام سے "مفت" کروا دی جاتی ہے. طوطا رام اپنے آپ کو عِلم ازدواج کا ماہر سمجھتا تھا اور علم ازدواج کے تمام منتر نرملا پر پھونکتا ہے. مگر نِرملا طوطا رام کو محبت کی چیز نہیں عزت کی چیز سمجھتی تھی کیونکہ اسی قسم کا ایک شخص اُس کا باپ تھا. نرملا نے خود کو فرض پر قربان کرنے کا فیصلہ تو کر لیا مگر طوطا رام کے شکی طبیعت نے نہ صرف نرملا کی قربانی مٹی میں ملا دی بلکہ اپنے لڑکوں کی زندگی بھی جہنم کر دی. شاید بے جوڑ شادیوں کا یہی انجام ہوتا ہے.
گو کہ منشی پریم چند کے انتقال کو صدی ہونے کو ہے لیکن نرملا پڑھ کر لگتا ہے اکیسوں صدی کی ہی عکاسی ہے. وہی جہیز کا رونا اور دقیانوسی سوچ. تب منہ کھول کر لڑکے کے بدلے پیسے مانگے جاتے تھے اور آج گھر گاڑی مانگی جاتی ہے. صدی گزر گئ مگر ہم نہیں بدلے.
مجھے لگا تھا کہ بیسویں صدی کی عورت روتی دھوتی, شکوے شکایتیں کرتی ملے گی لیکن میں تب حیران ہوئی جب کہانی کی عورتیں نہ صرف ایک دوسرے کا احساس کرتی بلکہ اپنا حق مانگتے نظر آئی اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی ڈھارس بھی بن گئی. جو اکیسویں صدی کی عورتوں میں بھی بمشکل نظر آتا ہے
..
پیارے ریڈرز !
السلام علیکم! 👋
ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا ناول ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی لنک نہیں ملتا، تو کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ہم نے "Smart Urdu Novel Bank" تخلیق کیا ہے۔
یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک "Smart Library" ہے جہاں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر وہ ناول ملے گا جو پی ڈی ایف شکل میں موجود ہے۔
ایک چھوٹی سی جھلک:
عام ویب سائٹس پر آپ کو چند سو ناولز ملتے ہیں، لیکن ہمارے اس سسٹم میں ایک لاکھ سے زائد ناولز کے لنکس محفوظ ہیں! چاہے پرانا ڈائجسٹ ہو یا نیا ناول، بس نام لکھیں اور لنک حاضر۔
آزمانا شرط ہے! ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: 👇


Please share your valuable thoughts about this novel. We look forward to your comments.👇