فرح بخاری بےشک ایک منجھی ہوئی ڈائجسٹ نگری کی لکھاری ہیں جنہوں نے ہر بار الگ موضوع چنے اور ان کو اچھے سے سمیٹے، مگر مجھے ان سے ہمیشہ یہی شکایت رہی کہ ان کے ہیروز کچھ زیادہ ہی چھچھورے ہیں۔ پہلے گل کوہسار سے اسجد، پھر بن پاکھی سے رافع، مگر یہ ہے کہ دونوں ناولز اپنے Genre میں بہت ہی زبردست لکھے ہیں۔ اب اسی کڑی میں جڑا ہے ان کا پچھلے سال ختم ہوا قسطوار ناول "وہ نازنین"
"وہ نازنین" دو ساتھ ساتھ چلتے قصے کے ایک جگہ پہ تصادم پر مبنی ہے۔ افسوس ہو رہا کہ پہلے پڑھا کیوں نہیں۔
پہلا قصہ ہے ہماری ہیروئن نازنین کا، جو ایک پشتون پہاڑوں کی لڑکی ہے۔ اس کے ابا نے اپنے کسی دوست کے بیٹے سے اس کا رشتہ طے کر دیا ہے۔ شروع میں کہانی بڑی روائتی انداز میں چلتی جاتی ہے۔ پشتون کے رواج و روایات پہ نظریں گھمائی جاتی ہیں۔ ایسی خاموشی رہتی ہے جیسے طوفان سے پہلے ہر سو خاموشی پھیل جاتی ہے، پھر عین نکاح کے وقت لگتا ہے بہت بڑا جھٹکا۔ (ظاہر ہے نازنین غائب ہو جاتی ہے۔)اب وہ لڑکی بھاگی ہے، اغواء ہوئی ہے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
دوسرا قصہ ہے واسع کا جو وکیل بن کر اپنے گاوں کے لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے مگر اس کے اپنے گھر والے ہی سیاپا ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ واسع کے ایک چاچا نے واسع کے باپ سے باغ ہتھیا لیا ہے۔ پھر جو جھگڑے اور سازشیں شروع ہوتی ہے وہی کہانی چلتے چلتے نازنین کی کہانی سے ملتی ہے۔ (واہ کیا موڑ تھا❤)
مزہ آیا۔ نازنین کا کردار پورے ناول پہ بھاری رہتا ہے۔ عام سی روتی دھوتی مجبور ہیروئنوں کی جگہ نازنین ایک مضبوط کردار ابھر کر سامنے آتا ہے۔ مجھے ہیروئنز کم ہی پسند ہیں، بلاشبہ نازنین بھی ان میں شامل ہو گئی ہے جو مجھے پسند آتی ہیں۔واسع، نازنین کے مقابلے میں پیچھے رہا کیونکہ وہ کر تو بہت کچھ سکتا تھا مگر مصنفہ نے اسے یہ کہہ کر چپ کروادیا کہ "زیادہ ہیرو نہ بنو، چپ کر کے بیٹھو!😂" ویسے یہ اچھا ہوا کہ واسع باقی ہیروز کی طرح چھچھورا بالکل نہ تھا۔اچھا بندہ تھا۔
کہانی میں سازشیں مزے کی ہیں۔ سسپنس اچھے ہیں۔ کردار چالاک ہیں۔ کیا بات کب اور کیسے کرنی ہے، ان کو بہت خوب پتا ہے۔بلوچستان کو بھی خوبصورتی سے کہانی میں ڈالا گیا ہے۔ پسند آیا ناول کافی! فرح بخاری کی یہ بات ہے کہ وہ کہانی کے علاقوں کو بہت فوٹیج دیتی ہیں۔ بھلے گل کوہسار کا مانسہرا ہو، بن پاکھی کا سندربن (بنگلہ دیش) یا وہ نازنین کا بلوچستانمناظروں سے سینز میں ایک زندگی بھر جاتی ہیں۔کہانی میں باقی کردار بھی قابل ذکر ہیں جیسے نیلم، نصیر، ذکی، سیف، پشمینہ، شبنم، جبار، رئیس۔شکر ہے نام عام تھے ورنہ سب مکس ہو جا تا
..
پیارے ریڈرز !
السلام علیکم! 👋
ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا ناول ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی لنک نہیں ملتا، تو کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے ہم نے "Smart Urdu Novel Bank" تخلیق کیا ہے۔
یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک "Smart Library" ہے جہاں آپ کو انٹرنیٹ پر موجود تقریباً ہر وہ ناول ملے گا جو پی ڈی ایف شکل میں موجود ہے۔
ایک چھوٹی سی جھلک:
عام ویب سائٹس پر آپ کو چند سو ناولز ملتے ہیں، لیکن ہمارے اس سسٹم میں ایک لاکھ سے زائد ناولز کے لنکس محفوظ ہیں! چاہے پرانا ڈائجسٹ ہو یا نیا ناول، بس نام لکھیں اور لنک حاضر۔
آزمانا شرط ہے! ابھی نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: 👇





Please share your valuable thoughts about this novel. We look forward to your comments.👇